بارش کو ترستا شہر۔۔۔۔کراچی
یوں تو کراچی والوں کی نظریں بادلوں پر ہمیشہ ہی سی جمی رہتی ہے۔ہلکی سی پوہار بھی پڑ جائے تو کراچی والوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے، اور جس دن بارش ہو جائے وہ دن کسی تہوار سے کم نہیں ہوتا۔گھروں کے میز سموسے اور پکڑوں سے سجھ جاتے ہیں۔ مہمانوں کی آمد میں یکایک اضافہ یو جاتا ہے ۔ گلیوں، محلوں میں سڑکوں پر جما پانی اور اس میں کھلتے بچے کسی واٹر پارک کا منظر پیش کر رہے ہوتے ھیں۔ مگر میری یہ سب باتیں وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو کراچی میں کبھی رہے ہوں یا رہ رہیں ہوں۔۔۔جولائی کا مہینہ اپنے ساتھ عجیب سی خوشی لاتا ہے کیونکہ جہاں اسکول، کالجوں کی تعطیلات کی وجہ سے گھروں میں رونق رہتی ہے وہیں ھر پل گھٹتی بڑھتی بارش کی امید دلوں میں امید کی کرنوں کو روشن کئے رکھتے ہے۔
کراچی کے بادل بھی باقی شھروں سے تھوڑا مختلف مزاج رکھتے ہیں۔ یوں تو سارا سارا دن کراچی پر منڈلاتے رہتے ہیں جون جولائی میں خاص طور پر شہر پر شام میں اس طرح چھا جاتے ہیں جیسے کراچی نہ ھو مری ھو۔ اکثر تو لگتا ہے بارش ہوئی کے ہوئی پر یہ سب قیاس آرائیاں ہی ثابت ہوتی ہیں۔آخر کیوں ؟؟؟
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کی یہ بادل موسمی ہوتے ہیں۔۔۔مون سونی نہیں۔
مجھے یقین ہے کہ یہاں کراچی والوں کے ذہنوں میں کئی سوالات اٹھ رہے ھوں گو کہ یہ کون سے بادل ہوتے ہیں ان کا تو نام ہے پہلی بار سنا ہے۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔ خیر یہ تھوڑی الگ کہانی ھے اس لیے ان کا بس نام ہی یاد رکھیے۔
ھاں تو اصل بات ہو رہی تھی بارش کی۔ بارش کے نام سے پچھلے سال کی بارش اور تباہی یاد آتی ہیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جب ایک ہی دن میں 250 سے زائد لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے اس شہر میں۔ غالبا 25 جون 2007 کے دن۔مجھی اچھی طرح یاد ہے وہ ہوا۔ میں چھت پر نہانے کی لئے پہنچا ھی تھا کہ یکایک جیسے طوفان آگیا ہو۔وہ عام ہوا نہیں تھی نہ ھی کوئی عام آندھی تھی۔وہ تو دلوں کو دھلانے والی ہوا تھی۔۔۔شاید ہمارے گناہوں کی وجہ سے۔۔۔ ًمجھے اس پل ایسا لگا تھا جیسے بس زندگی کا آخری لمحہ آگیا ھو۔ابھی اس واقعے کو بھول نہیں پائے تھے کہ اگست 2007 کا وہ دن سامنے آگیا جب 150 ملی میٹر سی زیا دہ بارش نے شھر کو ڈبو دیا۔۔۔صرف اتنا نہیں کہ بارش زیادہ ہوئی۔۔۔بلکہ اس خوفناک رات میں اچانک بجلی چمکنا اور بادل گرجنا شروع ہوئے کوئی رات 1 بجے سے ۔۔۔ پہلے تو گرج چمک معمولی تھی لیکن آہستہ آہستہ یہ اس قدد خوفنا ک ہو گئی کہ لگتا تھا بجلی گری کے گری ۔رات کو 2 بجے سب گھر والے جاگ گئے بجلی جب چمکتی تھی تو معلوم پڑتا تھا گھر کے اندر آرھی ھو۔ او آواز۔۔۔میری امی کی آنکھوں سے تو آنسو ٹپک گئے۔ ایک بار پھر مجھ گناہ گار کو موت یاد آگئ ۔۔شاید جو لوگ کلفٹن کے قریب رہتے ہیں انھیں یہ واقعہ یاد ھو۔ ٹی وی آن کیا تو وہاں بھی برینکنگ نیوز میں خوفناک گھن گرج کی روادار تھی۔ وہ واقعی ھی عجیب بادل تھا جو سر سے نہیں ہٹ رھا تھا۔ خیر 3 بجے کے بعد گھن گرج کچھ کم ہوئی تو سب نے سکون کا سانس لیا۔
خیر اس سال تو یہ شہر بارش کی بوند بوند کو ترس رہا ہے ۔اسلام آباد اور لاہور سے بارش کی خبریں آتیں ھیں تو وہاں کی رہنے والوں پر رشک آتا یے۔۔۔سب نگاہیں آسمان پر جمی ہیں اور جولائی کا مھینہ بھی با لکل خشک جا رھا یےآج 18 جولائی ہے اور بارش کا پتہ بھی نہیں۔ اگر یہ 2 مھینے بھی خشک گزر گئے تو پھر شاید بارش کے لیے پورا سال انتظار کرنا پڑی اس شہر کو۔۔بس دعا یہی ہے کہ جتنی بارش بھی ہو خیروعافیت والی ہو۔
تبصرے (5)