اک اجنبی

کچھ کچھ اپنا بھی۔۔۔

بے وفائی۔۔۔

 مجھے یقین ہے کہ میری غمگین شاعری پڑھ کر آپ مجھے ناکام عاشق سمجھ رہے ہوں گے۔۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔

بے وفا زندگی ہے ساتھ چھوڑ جائے گی,
یہ بھی تیری طرح ‌مجھ کو توڑ جائے گی۔

رشک تھا جن سے تعلق پہ ہم کو بھی،
بدلتے موسم سے پہلے  ہی بدلے وہ بھی۔
مطلبی دوستی ہے، منہ موڑ جائے گی۔۔۔
یہ بھی تیری طرح ‌مجھ کو توڑ جائے گی۔

پیغام دیتی ہے تیرا یہ چلتی ہوا ،
یاد دلاتی ہے میرا کوئی اپنا بھی تھا۔
 رشنہ کتنے غموں سے میرا جوڑ جائے گی۔۔۔
یہ بھی تیری طرح ‌مجھ کو توڑ جائے گی۔

بے وفا زندگی ہے ساتھ چھوڑ جائے گی،
یہ بھی تیری طرح ‌مجھ کو توڑ جائے گی۔

بارش کو ترستا شہر۔۔۔۔کراچی

یوں تو کراچی والوں کی نظریں بادلوں پر ہمیشہ ہی سی جمی رہتی ہے۔ہلکی سی پوہار بھی پڑ جائے تو کراچی والوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے،  اور جس دن بارش ہو جائے وہ دن کسی تہوار سے کم نہیں ہوتا۔گھروں کے میز سموسے اور پکڑوں سے سجھ جاتے ہیں۔ مہمانوں کی آمد میں یکایک اضافہ یو جاتا ہے ۔ گلیوں، محلوں میں سڑکوں پر جما پانی اور اس میں کھلتے بچے کسی واٹر پارک کا منظر پیش کر رہے ہوتے ھیں۔ مگر میری یہ سب باتیں وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو کراچی میں  کبھی رہے ہوں یا رہ رہیں ہوں۔۔۔جولائی کا مہینہ اپنے ساتھ عجیب سی خوشی لاتا ہے کیونکہ جہاں اسکول، کالجوں کی تعطیلات کی وجہ سے گھروں میں رونق رہتی ہے وہیں ھر پل گھٹتی بڑھتی بارش کی امید دلوں میں امید کی کرنوں کو روشن کئے رکھتے ہے۔

کراچی کے بادل بھی باقی شھروں سے  تھوڑا مختلف مزاج رکھتے ہیں۔ یوں تو سارا سارا دن کراچی پر منڈلاتے رہتے ہیں جون جولائی میں خاص طور پر شہر پر شام میں اس طرح چھا جاتے ہیں جیسے کراچی نہ ھو مری ھو۔ اکثر تو لگتا ہے بارش ہوئی کے ہوئی پر یہ سب قیاس آرائیاں ہی ثابت ہوتی ہیں۔آخر کیوں ؟؟؟

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کی یہ بادل موسمی ہوتے ہیں۔۔۔مون سونی نہیں۔
مجھے یقین ہے کہ یہاں کراچی والوں کے ذہنوں میں کئی سوالات اٹھ رہے ھوں گو کہ یہ کون سے بادل ہوتے ہیں ان کا تو نام ہے پہلی بار سنا ہے۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔ خیر یہ تھوڑی الگ  کہانی ھے اس لیے ان کا بس نام ہی یاد رکھیے۔

 ھاں تو  اصل بات ہو رہی تھی بارش کی۔ بارش کے نام سے پچھلے سال کی بارش اور تباہی یاد آتی ہیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جب ایک ہی دن میں 250 سے زائد لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے اس شہر میں۔ غالبا 25 جون 2007  کے دن۔مجھی اچھی طرح یاد ہے وہ ہوا۔ میں چھت پر نہانے کی لئے پہنچا ھی تھا کہ یکایک جیسے طوفان آگیا ہو۔وہ عام ہوا نہیں تھی نہ ھی کوئی عام آندھی تھی۔وہ تو دلوں کو دھلانے والی ہوا تھی۔۔۔شاید ہمارے گناہوں کی وجہ سے۔۔۔ ًمجھے اس پل ایسا لگا تھا جیسے بس زندگی کا آخری لمحہ آگیا ھو۔ابھی اس واقعے کو بھول نہیں پائے تھے کہ اگست  2007  کا وہ دن سامنے آگیا جب 150 ملی میٹر سی زیا دہ بارش نے شھر کو ڈبو دیا۔۔۔صرف اتنا نہیں کہ بارش زیادہ ہوئی۔۔۔بلکہ اس خوفناک رات میں اچانک بجلی چمکنا اور بادل گرجنا شروع ہوئے کوئی رات 1 بجے سے ۔۔۔ پہلے تو گرج چمک معمولی تھی لیکن آہستہ آہستہ یہ اس قدد خوفنا ک ہو گئی کہ لگتا تھا بجلی گری کے گری ۔رات کو 2 بجے سب گھر والے جاگ گئے بجلی جب چمکتی تھی تو معلوم پڑتا تھا گھر کے اندر آرھی ھو۔ او آواز۔۔۔میری امی کی آنکھوں سے تو آنسو ٹپک گئے۔ ایک بار پھر مجھ گناہ گار کو موت یاد آگئ ۔۔شاید جو لوگ کلفٹن کے قریب رہتے ہیں انھیں یہ واقعہ یاد ھو۔ ٹی وی آن کیا تو وہاں بھی برینکنگ نیوز میں خوفناک گھن گرج کی روادار تھی۔ وہ واقعی ھی عجیب بادل تھا جو سر سے نہیں ہٹ رھا تھا۔ خیر 3 بجے کے بعد گھن گرج کچھ کم ہوئی تو سب نے سکون کا سانس لیا۔

 خیر اس سال تو یہ شہر بارش کی بوند بوند کو ترس رہا ہے ۔اسلام آباد اور لاہور سے بارش کی خبریں آتیں‌ ھیں تو وہاں کی رہنے والوں پر رشک آتا یے۔۔۔سب نگاہیں آسمان پر  جمی ہیں اور جولائی کا مھینہ بھی با لکل  خشک جا رھا یےآج 18 جولائی ہے اور بارش کا پتہ بھی نہیں۔  اگر یہ 2 مھینے بھی خشک گزر گئے تو پھر شاید بارش کے لیے پورا سال انتظار کرنا پڑی اس شہر کو۔۔بس دعا یہی ہے کہ جتنی بارش بھی ہو خیروعافیت والی ہو۔

خاموش وفا۔۔۔

میری خاموش محبت کا تم چرچا عام نہ کر دینا،

میرے چپ چاپ وفا کو تم کہیں بدنام نہ کر دینا،

کہ میں نے کی ہے محبت، اجنبیوں کی طرح۔۔۔

نجانے غزلیں کہیں کتنی، ہیں میں نے تیری ادائوں پر،

نجانے کتنی رباعیاں لکھی، ہیں میں نے تیری وفائوں پر۔

کہیں ان غزلوں کو کس اور کی زینت نہ بنا دینا،

میری لکھی تحریروں کو نہ محفلوں میں سجا دینا۔

دیوان جو لکھے ہیں تجھ پر، کسی کے نام نہ کر دینا،

کہ میں نے کی ہے محبت، شاعروں کی طرح۔۔۔
کبھی زلفوں کو کہا تیری، میں نے ساون کا کوئی بادل،

کبھی کالی گھٹا کو کہا ، تیری آنکھوں کا ہی کاجل


کبھی نام لکھا تیرا ، اپنے در و دیواروں میں،

کبھی چہرہ تیرا دیکھا ، میں نے نکھری بہاروں میں۔

میرے اس دل کی حالت کو ، کوئی الزام نہ دے دینا۔

کہ میں نے کی ہے محبت، دیوانوں کی طرح۔۔۔

میرا پاکستان۔۔۔سلامت رہے تا قیامت

کہنے کو تو زمین کا ایک ٹکڑا ہی ہے ، پر میرے لیے اس سے کہیں زیادہ۔۔۔مجھے نھیں معلوم کہ میری محبت اس کے لئے کب سے ہے۔ لیکن اتنا پتہ ہے کہ اب یہ محبت میرے مرتے دم تک ہے۔اس کی آغوش میں خود کو محفوظ تصور کرنا، اس کی بارش میں جی بھر کے بھیگنا، اس کے لیے ھر وقت دعا گو رہنا، اس کی مصیبت کو اپنی پریشانی سمجھنا۔۔۔۔یہ سب اسی محبت کا حصہ ہیں جو مجھے تم سے ہے میرے وطن۔آج تم پھر سے مصیبت میں ہو۔ آج پھر سے یہ آنکھ اشک بار ھے۔ یہ میری دعا ہے کہ یہ وقت بھی کٹ جائے اور تم ہر مصیبت سے محفوظ رہو۔

ہم کیسے۔۔۔

             میری شاعری سے کچھ اقتسابات۔۔۔

              الجھی الجھی سب تحریریں۔۔۔!  
              ہم کیسے پڑھ لیں یہ لکیریں۔ 
             
              بکھری بکھری سب تدبیریں۔۔۔!    
              ہم کیسے بدلیں یوں تقدیریں۔ 
     
              اوجھل اوجھل سپنوں کی منزل۔۔۔! 
              ہم کیسے پائیں ان کی تعبیریں۔

              رفتہ رفتہ یہ جکڑے جائیں۔۔۔!
              ہم کیسے توڑیں یہ زنجیریں۔

            ٹکڑے ٹکڑے جو کی قسمت نے۔۔۔!
              ہم کیسے جوڑیں وہ تصویریں۔